روم،26اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اٹلی کے وسطی حصے میں بدھ کو آنے والے شدید زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 265سے تجاوز کر گئی ہے اور ملبے تلے دبے افراد کے زندہ بچنے کی امید کم ہوتی جا رہی ہے۔حکام نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور وزیرِ اعظم میتیو رینزی نے بحالی کے اقدامات کے لیے 50ملین یورو فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اٹلی میں بدھ کو آنے والے زلزلے کے نتیجے میں 267افراد کی ہلاکت اور 365افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔حکام کے مطابق پانچ ہزار امدادی کارکنان ملبے میں دبے لاپتہ افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔جمعرات کو 4.3شدت کے ایک زلزلے کے بعد امدادی کارکنوں کو پہلے سے متاثرہ عمارتوں سے لاپتہ افراد کی تلاش کے کام کو روکنا پڑا۔اماٹریس میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جس کے نتیجے میں گرد اور دھول کا ایک بگولہ ہوا میں بلند ہوتا دیکھا گیا۔اس سے پہلے بی بی سی نامہ نگار جینی ہِل کے مطابق امدادی کارکنوں نے صحافیوں اور وہاں موجود دیگر افراد سے کہا ہے کہ اماٹریس سے فوری طور پر چلے جائیں کیونکہ شہر میں عمارتین خود بخود زمین بوس ہو رہی ہیں۔حکام کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں اماٹریس میں ہوئی جہاں 184افراد ہلاک ہوئیجو زلزلے کے مرکز کے قریب واقع ہے۔اٹلی کے وزیراعظم میتیو رینزی نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد حتمی نہیں ہے۔اٹلی کے وزیرِ صحت کا کہنا ہے کہ مرنے والے افراد میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
زلزلے سے بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہو گئیں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔وزیراعظم میتیو رینزی نے زلزلے سے متاثرہ علاقے کے دورے میں وعدہ کیا کہ کسی خاندان، کسی شہر اور کسی گاؤں کو اس آفات میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔انھوں نے زلزلے کے بعد فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں رات کے وقت امدادی کارروائیاں شروع کرنے پر امدادی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا۔امدادی کارکنوں نے پیسکارا ڈیل ٹورنٹو میں دو لڑکوں کو ملبے سے زندہ بھی نکالا ہے۔ امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکوں نے چارپائی کے نیچے چھپ کر زندگی بچانیمیں کامیاب رہے ہیں۔پیسکارا ڈیل ٹورنٹو گاؤں کے علاوہ اماٹریس نامی قصبہ بھی زلزلے سے شدید متاثر ہوا ہے اور وہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔نامہ نگار جیمز رینالڈ جو اس وقت اماٹریس میں موجود ہیں، کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن سونگھنے والے کتوں کی مدد سے ملبے میں پھنسے ہوئے لوگوں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مقامی حکام یہ پتہ لگانے میں مصروف ہیں کہ ابھی تک کتنے لوگ لاپتہ ہیں۔ماضی کے زلزلوں کے اعداد و شمار کے مطابق خدشہ ہے کہ یہ زلزلہ بھی کافی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔